اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، صہیونی نشریاتی ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے آج لبنانی حکام کو فوجی کمانڈروں سے متعلق ایک فہرست فراہم کی ہے، جس میں جنوبی لبنان میں بعض سینئر فوجی افسران کی تعیناتی پر اعتراض کیا گیا ہے۔
صہیونی میڈیا کے مطابق اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ ان میں سے بعض کمانڈروں نے حساس معلومات حزب اللہ کو فراہم کی ہیں، اسی لیے انہیں جنوبی لبنان میں تعینات نہیں کیا جانا چاہیے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیل، لبنان کے ساتھ ابتدائی معاہدے کے بعد سے مسلسل یہ کوشش کر رہا ہے کہ لبنانی فوج اور حزب اللہ کے درمیان تصادم کی فضا پیدا کی جائے۔
حال ہی میں لبنانی اخبار الجمہوریہ نے اعلیٰ فوجی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ لبنانی فوج نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ کسی بھی صورت حزب اللہ کے ساتھ تصادم میں شامل نہیں ہوگی اور داخلی امن کو اپنی سرخ لکیر سمجھتی ہے۔ ذرائع کے مطابق اسی مؤقف نے اسرائیلی حکام کو ناراض کر رکھا ہے۔
ان ذرائع نے بتایا کہ لبنانی فوج کے نزدیک آزمائشی علاقے صرف وہ ہیں جو اس وقت اسرائیلی قبضے میں ہیں۔ اس تجویز کے تحت اسرائیلی فوج محدود پیمانے پر ان علاقوں سے انخلا کرے اور ان کا کنٹرول لبنانی فوج کے حوالے کرے۔
ذرائع کے مطابق لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کے دوران جب لبنانی فوجی وفد نے اس تجویز پر اصرار کیا تو اسرائیلی وفد نے اچانک اپنے نقشے پر نام نہاد "زرد لائن" کو مزید وسیع کرتے ہوئے علی الطاہر کی پہاڑیوں کو بھی اس میں شامل کر دیا، حالانکہ یہ علاقے ابھی تک اسرائیلی قبضے میں نہیں آئے تھے۔
لبنانی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیل کا مقصد لبنانی فوج کو بارودی سرنگوں سے بھرے اس علاقے میں داخل ہونے اور حزب اللہ کے ساتھ تصادم کی طرف دھکیلنا تھا، تاکہ اسرائیلی فوج کو کسی قسم کے جانی نقصان یا خطرے کا سامنا نہ کرنا پڑے، تاہم لبنانی فوجی وفد نے اس تجویز کو مکمل طور پر مسترد کر دیا۔
دریں اثنا، لبنان کے صدر جوزف عون نے بھی آج جنوبی لبنان میں اسرائیلی قبضے کے تسلسل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ رکاوٹیں مزید جاری نہیں رہنی چاہییں۔ انہوں نے زور دیا کہ اسرائیل پر مقبوضہ لبنانی علاقوں سے انخلا کے لیے دباؤ بڑھایا جانا چاہیے، کیونکہ قبضے کا برقرار رہنا ریاست کی ساکھ کو متاثر کرتا ہے، لبنانی فوج کی مکمل تعیناتی میں رکاوٹ بنتا ہے اور پائیدار و منصفانہ امن کے قیام کی راہ میں حائل ہے۔
آپ کا تبصرہ